مہر خبررساں ایجنسی_سیاسی ڈیسک_ ہادی رضائی: منگل، 8 ستمبر 2026 کو خلیجِ فارس سے آنے والی ایک خبر نے پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی حکام میں کھلبلی مچا دی۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ نے ایک پیچیدہ خفیہ اور فوجی کاروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر ایک امریکی بغیر پائلٹ آبدوز کا سراغ لگایا، اس کا تعاقب کیا اور بالآخر اسے قبضے میں لے لیا۔
لیکن اس کاروائی کے بعد سامنے آنے والی خبریں بھی اپنی جگہ انتہائی اہم اور قابلِ توجہ ہیں۔ درحقیقت، اس خبر کے بعد جو کچھ ہوا، وہ خود اس کاروائی سے کسی طور کم اہم نہیں تھا اور اس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
اس امریکی جدید ٹیکنالوجی سے لیس آبدوز کو پانی سے نکالتے ہوئے دکھائی جانے والی تصاویر کے چند ہی گھنٹوں بعد، واشنگٹن کی پروپیگنڈا مشینری پوری قوت کے ساتھ متحرک ہوگئی۔
مقصد واضح تھا: واقعے کی اہمیت کو کم ظاہر کرنا، اس سے انکار کرنا اور میدانِ جنگ میں ناکامی کے معاملے کو محض آلات کی معمولی خرابی قرار دے کر معاملے کا رخ بدل دینا۔
لیکن کیا امریکی مؤقف فنی حقائق اور زمینی صورتحال سے مطابقت رکھتا ہے؟ ماہرین کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پردہ پوشی کے پیچھے، اس اہم آبدوز کے شکار کے تزویراتی اثرات کا گہرا خوف کار فرما ہے۔

واشنگٹن کا بے بسی پر مبنی بیانیہ: ایک پرانا اور خراب روبوٹ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان نے واقعے پر اپنے پہلے ردِعمل میں تین اہم دعوؤں کے ذریعے عالمی رائے عامہ میں اس واقعے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی:
1. یہ آبدوز قبضے میں لیے جانے سے ایک دن سے بھی پہلے فنی خرابی کی شکار ہوگئی تھی اور امریکی فوج نے اس کا کنٹرول کھو دیا تھا۔
2. یہ ایک پرانا اور متروک ماڈل تھا۔
3. اس آبدوز میں کوئی حساس اور خفیہ آلات، مثلاً سونار اور جدید ریڈار، موجود نہیں تھے اور یہ کوئی اہم معلومات جمع نہیں کر رہی تھی۔
یہ مؤقف «ادراکی جنگ اور بیانیے کی جنگ» میں استعمال ہونے والی ایک روایتی حکمتِ عملی ہے۔
واشنگٹن اس آبدوز کو «پرانا» اور «خراب» قرار دے کر دنیا کے اہم ترین اور حساس آبی راستوں میں سے ایک میں اپنی انٹیلی جنس اور عملیاتی ناکامی کو محض ایک «معمولی فنی حادثہ» ثابت کرنا چاہتا ہے۔
لیکن فنی حقائق اس معاملے کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
حقیقت کی جانچ: Dive-LD، پینٹاگون کے «Replicator» پروگرام کا اہم منصوبہ
قبضے میں لیا گیا یہ ڈرون، تصاویر اور تکنیکی تفصیلات کو عسکری ذرائعِ ابلاغ کی جانب سے ملانے کے بعد، امریکی کمپنی Anduril Industries کا تیار کردہ Dive-LD نکلا ہے۔ کمپنی اور اس آبدوز کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو اسے «پرانا» قرار دینے کا امریکی دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔
گزشتہ دور کی ٹیکنالوجی نہیں، جدید دفاعی نظام: امریکی کمپنی Anduril نے 2022 میں Dive Technologies کی ٹیکنالوجی خرید کر اسے امریکی زیرِ آب دفاعی نظام کے اہم حصے کے طور پر شامل کیا۔
یہ کوئی ترک شدہ یا فرسودہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی کی جدید ترین پیش رفت کا حصہ ہے۔
«Replicator» پروگرام کا اہم رکن: 2024 میں امریکی دفاعی ذرائعِ ابلاغ، جن میں DefenseScoop بھی شامل ہے، نے رپورٹ کیا کہ Dive-LD کو امریکی بحریہ کے «Replicator» پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد، چین اور ایران کے مقابلے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور بغیر پائلٹ کے ڈرون بڑے پیمانے پر تیار اور استعمال کرنا ہے۔
قابلِ ذکر تکنیکی صلاحیتیں: یہ بڑا جدید ٹیکنالوجی سے لیس زیرِ آب ڈرون (L-AUV) تقریباً 5.8 میٹر طویل اور 1.2 میٹر کا ہے۔ یہ 6,000 میٹر تک گہرائی میں غوطہ لگا سکتا ہے اور 10 روز تک مکمل بغیر پائلٹ کے خاموشی سے سمندر میں کام کر سکتا ہے۔
جدید اور ماڈیولر ڈیزائن: امریکہ کے اس دعوے کے برخلاف کہ Dive-LD ایک سادہ اور صرف ایک مقصد کے لیے بنایا گیا نظام ہے، اس کا ڈیزائن مختلف مشنز کے مطابق مختلف حساس آلات، سمندری بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے سازوسامان، آبدوز شکن کارروائیوں (ASW) اور سمندر کی تہہ کی نقشہ سازی کے لیے موزوں ہے۔

ایک «خراب» ڈرون تزویراتی اہمیت کا حامل کیوں ہے؟
اگر امریکی دعوے کو درست بھی مان لیا جائے کہ یہ مخصوص ڈرون، فنی خرابی کا شکار تھا یا قبضے کے وقت اس میں کوئی حساس سامان موجود نہیں تھا، تب بھی سپاہِ پاسداران کی اس کارروائی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔
اس واقعے نے کئی اہم سوالات اٹھا دئیے ہیں:
1. عملی میدان میں ناکامی: سوال یہ ہے کہ ایک جدید ٹیکنالوجی سے لیس آبدوز، جو مشکل اور طویل مدتی کارروائیوں کے لیے بنائی گئی ہے، دنیا کے انتہائی حساس اور زیرِ نگرانی سمندری علاقوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز میں کیسے خراب ہوئی اور پکڑی گئی؟
یہ واقعہ ایران کی مقامی نگرانی اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
2. مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی تک رسائی: اس آبدوز کی اصل اہمیت صرف اس کے جسمانی ڈھانچے میں نہیں، بلکہ اس کے رابطہ نظام، نیویگیشن، مصنوعی ذہانت اور مشن کے طریقۂ کار میں ہے۔ اس کا جائزہ لے کر ایرانی ماہرین اس کی کمزوریاں سمجھنے اور نئی زیرِ آب ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔
3. واضح مزاحمتی پیغام: Anduril کے مطابق Dive-LD کو خطرناک علاقوں میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن اس آبدوز کو قبضے میں لے کر سپاہِ پاسداران نے واشنگٹن کو یہ پیغام دیا کہ امریکہ کے لیے خطرناک اور ریسکی علاقہ، ایران کے لیے محفوظ علاقہ ہے۔
آبنائے ہرمز؛ جہاں ایک «روبوٹ» بھی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے
یہ واقعہ دنیا کے کسی عام مقام پر پیش نہیں آیا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی اہم گزرگاہ اور ایران و استکبار کے درمیان کشمکش کا ایک اہم محاذ ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے بغیر پائلٹ آبدوزوں کے ذریعے سمندری تہہ کی تفصیلی نقشہ سازی، ممکنہ رکاوٹوں اور بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور سپاہِ پاسداران کے بحری جہازوں کی آواز پر مبنی شناختی آثار (Acoustic Signature) جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
Dive-LD کے شکار کا مطلب اس آبی گزرگاہ میں پینٹاگون کے اہم ترین انٹیلی جنس ذرائع میں سے ایک کا ناکام ہونا ہے۔ ایران نے اس کارروائی کے ذریعے نہ صرف ایک ممکنہ خطرے کو بے اثر کیا، بلکہ زیرِ آب جنگ کے کنٹرول کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
اختتامی کلام:
شکست کا نام بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی واشنگٹن اپنی تمام تر میڈیا طاقت کے ساتھ اس واقعے کو ’’ایک پرانے اور خراب روبوٹ کے گم ہوجانے‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جبکہ تہران اسے بجا طور پر ایک بڑی انٹلیجنس اور آپریشنل کامیابی قرار دیتا ہے۔
لیکن اس بیانیے کی جنگ کے درمیان ایک ناقابلِ تردید فنی اور زمینی حقیقت موجود ہے، جسے کسی بھی پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جا سکتا:
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج امریکی فوج کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس آبدوزوں میں سے ایک کو خطے کے انتہائی حساس جغرافیائی و سیاسی مقام پر شناخت کرکے قبضے میں لینے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
آج اصل مقابلہ ’’سمندر کی گہرائیوں میں موجود بغیر پائلٹ آنکھوں اور کانوں‘‘ کا ہے۔ امریکہ برسوں سے بھاری اخراجات کے ساتھ اس میدان میں آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اب اس نئی نسل کی بحری جنگ کے اہم ترین نظاموں میں سے ایک قیمتی نظام غنیمت کے طور پر ایرانی دفاعی ماہرین کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
یہ بے مثال اقتدار اور سمندر کے گمنام محافظوں کی غیر معمولی ذہانت سپریم کمانڈر (رہبرِ انقلابِ اسلامی) اور ایرانی غیور قوم کے لیے قابلِ فخر ہے، جس پر انہیں مبارک باد پیش کی جانی چاہیے۔
خلیجِ ہمیشہ فارس کے بیدار محافظوں کو خراجِ تحسین!
آپ کا تبصرہ